صفحہ اول / آرکائیو / فیکٹ چیک۔۔۔پرنٹ اور الیکٹرا میڈیا کوریج پر پابندی کا نوٹیفیکیشن زیر گردش۔۔۔حقیقت کیا ہے؟؟؟

فیکٹ چیک۔۔۔پرنٹ اور الیکٹرا میڈیا کوریج پر پابندی کا نوٹیفیکیشن زیر گردش۔۔۔حقیقت کیا ہے؟؟؟

مہرین خالد

ہسپتالوں میں پیمرا کا پرنٹ اورالیکٹرا میڈیا کوریج پر پابندی کا نوٹیفیکیشن
دعوی : ڈیرہ اسماعیل خان میں سوشل میڈیا پر ہسپتالوں میں صحافیوں کی کوریج پر پابندی لگنے اور خلاف ورزی پر سزا کی نوٹیفیکیشن زیر گردش ہے۔ جس میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو پیمرا نے کسی بھی قسم کی کوریج نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اور خلاف ورزی کی صورت میں 2 سال سے 10 تک کی سزا کی تنبیہہ کی گئی ہے۔اس نوٹیفیکیشن کو سوشل میڈیا پر ہزاروں لوگوں نے دیکھا، سینکڑوں نے کمنٹس کئے اور درجنوں صارفین نے شئیر کیا ہے۔ جبکہ صحافیوں کے آنے کا راستہ روکنے کےلئے بعض ہسپتال نوٹیکیشن کا پرنٹ نکال کرآویزاں بھی کرتے ہیں۔

حقیقت : نوٹیفیکیشن جعلی ہے۔ جو پہلے بھی 18 جون 2019 کو سوشل میڈیاکے ذریعے ڈس انفارمیشن/پروپیگنڈہ کے طور پر پھیلایا گیا تھا۔جس کی متعلقہ حکام نے تردید کی ۔ جبکہ پیمرا الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کرتا ہے۔ اور نوٹیفیکیشن میں اخبارات کا بھی ذکر کیا گیاہے۔ جو پیمرا کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔ دوسری جانب PPC کی دفعات کا اعلامیہ میں اندراج کیا گیا ہے اور ان دفعات کا پیمرا سے کوئی تعلق نہیں ان کا تعین پولیس کی جانب سے کیا جاتا ہے۔

فیکٹ چیک : پیمرا کے نام سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کی تصدیق کے لئے میں نے ڈیرہ اسماعیل خان کے مقامی سوشل میڈیا نیوز پیجز سرچ کئے تو Daman TV اورDaily Dera News نامی پیجزکی 10 اکتوبر 2023 کی پوسٹس میں جعلی نوٹیفیکیشن دوبارہ وائرل ہونے اور تردید کے نام سے وضاحتی نوٹیفیکشن کی تصویر بھی شئیر کی ہے۔ اس کے بعد گوگل میں پیمرا ویب سائٹ سرچ کیا۔ جس میں رولز ریگولیشن کے مطابق صرف الیکٹرانک میڈیا پیمرا کے اختیار میں آتا ہے۔ پیمرا قوانین اخبارات پر لاگو نہیں ہوسکتے۔ جبکہ نوٹیفیکشن میں اخبارات کا واضح ذکر کیا گیا ہے۔ نوٹیفیکیشن پر کسی مجاز افسر کا سٹمپ اور دستخط نہیں۔
پیمرا نے 23 اگست 2019 میں متعلقہ اعلامیہ کی تردید کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے