صفحہ اول / آرکائیو / انتہاء پسندانہ سوچ کا خاتمہ، پاکستان کی اہم ضرورت

انتہاء پسندانہ سوچ کا خاتمہ، پاکستان کی اہم ضرورت

تحریر۔ محمد فضل الرحمان

جب ہم دہشت گردی کے عمل کو ملک وقوم کے لیئے زہر قاتل اور ناقابل برداشت قرار دیتے ہیں تو ہم ان عوام کو یا تو فراموش کر دیتے ہیں یا ان پر حقیقی معنوں میں توجہ ہی نہیں دیتے جنکی بنیاد پر دہشت گردی جیسا قبیح عمل وقوع پذیر ہوتا ہے۔

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے پس پردہ عوام کے حوالے سے جتنی بھی تحقیق ہوئی ہے اس بارے میں دو درجن سے زائد رپورٹس کا جب مطالعہ کیا گیا تو اس بات کی نشاندھی کی گئی کہ اگر ہم دہشت گردی کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں جن بنیادی عوامل پر قابو پانا ہوگا ان میں انتہاء پسندی پہلے نمبر پر ہے۔

اگرچہ معاشی مسائل بھی دہشت گردی کے اہم عوامل میں شامل ہے مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ انتہاء پسندی ایسا عنصر ہے کہ جسے اگر ختم نہ کیا گیا تو دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہی نہیں۔ ماضی بعید کو چھوڑیئے صرف گزشتہ چند ماہ میں وطن عزیز میں ہونے والے واقعات نے معاشرے میں پائی جانے والی نفرت، انتہاء پسندی کے افسوسناک اور خطرناک رجحان کی عکاسی کی ہے۔

ابھی قوم سانحہ نو مئی کے افسوسناک اور قابل مذمت سانحہ سے باہر نہیں نکلی تھی کہ جڑانوالہ کا سانحہ رونما ہوا جس پر سوائے چند انتہاء پسندانہ سوچ کے حامل عناصر کے علاؤہ پوری قوم سراپا احتجاج ہے۔

اسلام، اسلامی شعائر، اسلامی مقدسات کی توہین کوئی گناہ گار مسلمان برداشت نہیں کرتا تاہم ریاست کی جانب سے اس حوالہ سے قانون بھی موجود ہے اور قانون پر عملدرآمد کرنے والے ادارے بھی موجود ہیں اور تمام ریاستی اداروں کے پاس اسلامی شعائر اور ریاستی وقار کے تحفظ کا جذبہ، ولولہ اور عشق بھی بدرجہ اتم موجود ہے اور اسلام یا پاکستان کے خلاف کسی ایکشن کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت بھی موجود ہے اسکے باوجود کسی فرد واحد کے عمل کی سزاء کسی برادری قبیلہ یا علاقہ کو دینا ناہی مہذب انسانیت کے زمرے میں آتا ہے اور نہ ہی کائنات کے بہترین مذہب اسلام میں اسکی اجازت تو چھوڑیں زرا برابر بھی گنجائش نہیں۔

جڑانوالہ میں مسیحی برادری کے ساتھ ہونے والے سانحہ پر جڑانوالہ کی متعدد مذہبی شخصیات نے فوری طور پر اس سانحہ کی مذمت کی۔ پاکستان علماء و مشائخ کونسل کے سربراہ علامہ طاہر اشرفی نے اس پر احتجاج کیا اور سپہ سالار پاکستان حافظ سید عاصم منیر اور نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے دنیا بھر کے سامنے اپنا واضح موقف دیکر پاکستانی عوام کی نہ صرف ترجمانی کی ہے بلکہ پاکستان کے تشخص کو خراب کرنے کی سازش کا بروقت توڑ کیا اور دنیا بھر میں مسیحی برادری اور دیگر اقلیتوں کو محبت رواداری کا پیغام دیا۔

وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی کی جانب سے نگران وفاقی کابینہ کے پہلے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیر اعظم کی جانب سے سانحہ جڑانوالہ کے حوالہ سے بتایا گیا کہ اس سانحہ پر پوری قوم کی طرح ہمارے دل بھی رنجیدہ ہیں۔ مرتضی سولنگی نے کہا کہ معاشرے سے نفرت کے ابلتے لاوے ختم کرنے کے لیئے اساتذہ ، علماء ، تاجروں ، صحافیوں ، دانشوروں کو کردار ادا کرنا ہوگا ہمیں میڈیا۔ کلاس رومز، مدارس ممبر ومحراب سے انتہاء پسندی اور نفرت کے خاتمہ کا درس عام کرنا ہوگا۔

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ سانحہ جڑانوالہ کے حوالہ سے ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی تمام مزاہب کا احترام ہماری اور ریاست کہ ذمہ داری ہے۔ واقعہ کے ذمہ داروں کو نہیں چھوڑا جائے گا اور ریاست اقلیتوں کو بھرپور تحفظ فراہم کرے گی۔

سپہ سالار پاکستان حافظ سید عاصم منیر نے کہا کہ تمام شہری بلاتفریق مذہب جنس زات برابر ہیں کسی کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دینگے اقلیتوں کے خلاف عدم اور انتہاء پسندی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

اس حوالہ سے پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی کے کردار کو اگر خراج تحسین پیش نہ کیا جائے تو یہ ذیادتی ہوگی انہوں نے مسیحی راہنماؤں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں جہاں قرآن پاک کے اوراق کی بے حرمتی کو قابل مذمت اور قانون کے مطابق سزاء کا مستحق قرار دیا وہیں انہوں نے مسیحی برادری کے عبادت خانوں اور مقدس کتابوں اور دیگر املاک کے نقصان پر ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور ایک قابل ستائش عمل کیا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں نفرت کے ماحول کے خاتمہ انتہاء پسندانہ سوچ کے خاتمہ کے لیئے برادشت رواداری کے معاشرہ کو فروغ دینا ہوگا اور اسی عمل سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا اور ملک وقوم کی حقیقی ترقی کا سفر شروع ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے